محمد مرسی کی موت کے بعد
ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا تھا۔
اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’محمد مرسی کو اُن کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بُری خوراک فراہم کی گئی۔
اپنے ایک بیان میں محمد مرسی کی بیٹی شیما مرسی نے کہا تھا کہ جیل حکام نے اُن کے والد کی بیماری کا علاج کرنے سے انکار کرکے اUNS کے موت میں کردار ادا کیا۔
محمد مرسی سنہ 1951 میں مصر کے ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی تھی۔
اخوان المسلیمن نے سنہ 2012 میں صدارتی دوڑ کے اپنے پسندیدہ امیدوار کو مقابلہ چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے بعد محمد مرسی کو اپنا محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا تھا۔اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’محمد مرسی کو اُن کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بُری خوراک فراہم کی گئی۔ محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا تھا۔اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’محمد مرسی کو اُن کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بُری خوراک فراہم کی گئی۔
محمد مرسی کو برطرف کر کے انھیں جیل میں بند کر دیا تھا۔
tختہ الٹ دیے جانے کے بعد چار ماہ تک محمد مرسی کو نامعلوم مقامات پر قید رکھا گیا تھا اور پھر ستمبر 2013 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اب ان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔
حکومت کا الزام تھا کہ محمد مرسی نے اپنے حامیوں کو صحافیوں اور حزب مخالف کے دو رہنماؤں کو قتل کرنے پر اکسایا اور کئی دیگر افراد کو غیر قانونی طور پر قید کیا اور ان پر تشدد کروایا تھا۔
محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے 14 دیگر سرکردہ رہنماؤں پر قائم کیے جانے والے ان مقدامات کی سماعت نومبر 2013 میں شروع ہوئی تھی۔
مقدمے کی پہلی سماعت پر کٹہرے میں کھڑے محمد مرسی نے نہ صرف چیخ چیخ کر کہا تھا کہ انھیں ’فوجی بغاوت‘ کا شکار کیا گیا ہے بلکہ انھوں نے اس عدالت کو ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا جو ان کے مقدمات کی سماعت کر رہی تھی۔
اس کے علاوہ محمد مرسی کو کئی دیگر جرائم کا بھی Merit کیا گیا جن میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے گٹھ جوڑ سے سنہ 2011 میں قیدیو محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک لیکن مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی‘ قرار دیا تھا۔اخوان المسلمین کے سیاسی بازو دی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’محمد مرسی کو اُن کی گرفتاری کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، انھیں ادویات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں بُری خوراک فراہم کی گئی۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)