بہار پولیس سورج یادو اور مورچہ (ایچ اے ایم) کے بین الاقLObjectتنازع کے لیے تحقیقات کیا
رُکن اسمبلی اجے یادو نے پولیس کے مقامی اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے سورج یادو نامی فریق کے ساتھ ناانصافی برتنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غریب آدمی کو بھینس کے تنازع پر اتنے مہنگے قانونی مقدمات میں الجھانا مناسب نہیں۔
دوسری طرف، ہندستانی عوام مورچہ (ایچ اے ایم) کے قومی ترجمان شیام سندر شرن نے پرکاش مانجھی کے حق میں پولیس سے ملاقات کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
مگدھ رینج کے آئی جی وکاس ویبھو نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ دونوں فریق اپنے دعووں پر قائم ہیں، اس لیے سائنسی شواہد کی مدد لینا ضروری ہو گیا تھا۔
پولیس نے دونوں دعویداروں سے اُن کے پاس موجود بھینسوں کے ریکارڈ طلب کیے، جن میں اس کی نسل اور خاندانی معلومات موجود ہو سکتی ہیں۔
تنازع کے بیچ موجود بھینس کے ڈی این اے کا موازنہ اُس کے مبینہ بچے (جو سورج یادو کے بقول اُن کے پاس موجود ہے) سے کیا جائے گا تاکہ اصل مالک کا تعین کیا جا سکے۔
مقامی ڈی آئی جی نے کہا کہ آج انھوں نے اپنے افسران کو متعلقہ تھانے روانہ کیا ہے تاکہ گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کریں اور شواہد جمع کریں۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال اس تنازعے کا واحد حل ڈی این اے ٹیسٹ نظر آتا ہے کیونکہ سورج یادو کا کہنا ہے کہ اُن کی بھینس کا بچہ یہ ثابت کر دے گا کہ یہ اُن کی ملکیت ہے۔
پولیس نے دونوں دعویداروں سے اُن کے پاس موجود بھینسوں کے ریکارڈ طلب کیے، جن میں اس ک
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0