یسرون اپنے استاد ابا کے بارے میں تحقیقات شروع کرنے والے سال
مشترکہ حصول کی کوشش پر قائم ہوا۔ ان کے وکیل جوکو جمادی کا کہنا ہے کہ وہ ان طلبہ کی جرات اور باریک بینی سے متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ طلبہ کی خفیہ ریکارڈنگز خاموش رہنے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کو حقیقی وقت میں ثبت کرتی ہیں اور اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’متعدد متاثرین کا ذکر موجود ہے اور خود متعلقہ شخص نے ان کا اعتراف بھی کیا ہے۔ یہ اہم شواہد ہیں۔ ‘جوکو اور ان کی ٹیم نے گذشتہ تین برسوں میں مغربی نوسا تنگارا صوبے میں اسلامی بورڈنگ سکولوں (مدرسے) سے متعلق جنسی بدسلوکی کے 20 مقدمات نمٹائے ہیں، اور ان کے خیال میں یہ ’صرف شروعات ہے۔ ‘
انتباہ: اس تحریر میں جنسی بدسلوکی سے متعلق تفصیلات موجود ہیں۔
فون کے دوسری جانب سے آنے والی آواز سن کر یسرون الزاہدی کا دل بیٹھ سا گیا۔ انھوں نے اپنی بہن کے نمبر پر کال کی تھی کیونکہ اس نے انھیں فوری طور پر فون کرنے کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن لائن پر ان کی بہن نہیں تھی بلکہ یسرون کے سابق ہ یسرون الزاہدی نے اپنی بہن کے نمبر پر کال کی تھی، جس نے انہیں فوری طور پر فون کرنے کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن لائن پر ان کی بہن نہیں تھی بلکہ یسرون کے سابق ہیڈ ٹیچر تھے۔
وہ ایسون کے خاندانی گھر میں موجود تھے۔
یسرون نے ان کی بہن سے پیغام بھیجا تھا کہ وہ فوری طور پر فون کرنے کا اجازت دے رہے ہیں۔
احمد ایمان الدین ثمر نے ان کے طلبہ ابا (والد) کو ان کے طلبہ سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا کر پکارا تھا۔ وہ فون کال کے دوران اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یسرون نے ایک سال قبل ابا کے بارے میں تحقیقات شروع کی تھی، جس کی وجہ ایک رات ان کی سابق ہم جماعت زیادہ رحمان کا انکشاف تھا۔
دونوں لومبوک کے ابو باروکات سکول کے سٹار طالب علم تھے
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0