ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔
نوید حیات ملک نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو 2022 اور 2024 میں پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کیا، جس سے انہوں نے اجازت دینے کی تکمیل کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ویڈیوز چلانا عدالت کی روایت نہیں، تاہم بعدازاں عدالت نے ایک مرتبہ ویڈیوز چلانے کی اجازت دے دی۔
2024 کے احتجاج میں بھی اسلام آباد میں توڑ پھوڑ، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور رینجرز اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلنے کی کوشش جیسے واقعات پیش آئے۔
نوید حیات ملک نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں جلسے یا ریلی کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے اور مجسٹریٹ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا مسترد کرنے کے مجاز ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے پی ٹی آئی پورے وسائل ہٹائی گئیں، اسلام آباد کے ڈی چوک میں آگ لگائی گئی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور ایک پولیس اہلکار کمال کو ہلاک کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیٹی آئی پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہے اور ’ہمارے پاس انھیں روکنے کی صلاحیت نہیں، ہم صرف پیشگی انتظامات کر سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا حکومتی نمائندوں یا وزرائے اعلیٰ کو اشتعال انگیز تقاریر کا حق حاصل ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ آئین کسی شخص کو اشتعال
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0