پر ایسی برادری میں، مذہب کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے۔

Aug 30, 2026 - 12:20
پر ایسی برادری میں، مذہب کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے۔

پر ایسی برادری میں، مذہب کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے۔

اگرچہ اس خطے میں کافی عرصے سے احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے، لیکن بیرونِ ملک موجود تبتی گروہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی قوانین کا مقصد خانقاہوں اور بدھ مت کے مذہب کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔

حادثے کے چند گھنٹوں بعد ہی کمیونسٹ پارٹی نے مقامی کارکنوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تاکہ لینڈ سلائیڈ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر عدم اطمینان کی کسی بھی علامت کو روکا جا سکے۔

مقامی پارٹی دفتر نے ایک نوٹس جاری کیا جس میں ارکان سے کہا گیا کہ وہ امدادی کاموں میں حصہ لیں اور متاثرہ افراد کو ذہنی اور جذباتی مدد فراہم کریں۔

نوٹس میں خاص طور پر زور دیا گیا کہ وہ ’سماجی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور متاثرہ علاقوں میں استحکام اور عوامی اعتماد قائم رکھنے‘ کی ہر ممکن کوشش کریں۔

اس میں کہا گیا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو انعام دیا جائے گا جبکہ ناقص کارکردگی پر جواب دہی ہو گی۔

یہ ایک ایسی وارننگ ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا یہ ایک ایسی وارننگ ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق تبتی باشندوں کو صحافیوں سے بات کرنے یا سوشل میڈیا پر ایسی معلومات شیئر کرنے پر حراست میں لیا جا سکتا ہے جو حکومتی مؤقف کے خلاف سمجھی جائیں۔

اسی وجہ سے خطے سے باہر رہنے والے تبت کے بہت سے شہریوں کو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انٹرنیشنل کیمپین فار تبت نے امدادی کارکنوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیجنگ سوشل میڈیا سے ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات ہٹا رہا ہے۔

تنظیم نے چینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ نقصانات اور ہلاکتوں کے بارے میں مکمل اور قابلِ تصدیق معلومات جاری کریں۔

تبتیو تبتیوں کی زندگی کو سمجھنے کے لیے بی بی سی نے گزشتہ سال ایک ایسے قصبے کا دورہ کیا تھا جو ہمالیائی سطحِ مرتفع کے کنارے واقع ہے اور چین کے مطابق تبتی خودمختار علاقے سے باہر ہے۔

وہاں ہم نے ابا میں کیرتی خانقاہ(یا تبتی زبان میں نگابا) میں راہبوں سے بات کی، جو کبھی بیجنگ کے خلاف مزاحمت کا مرکز تھا۔

ایک راہب نے ہمیں بتایا کہ ’ہم تبتی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ ‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل نگرانی میں زندگی گزارتے ہیں اور چینی حکومت تبتیوں کے ساتھ ظلم کرتی ہے۔ ہماری بات چیت مختصر رہی کیونکہ ہمیں زیادہ دیر تک کسی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکتا تھا。

دوسری جانب بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرت

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0