اسرائیلی افواج جنوب شام کے بعض علاقوں میں داخل ہوئیں اور اس کے بعد سے شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے…
اسرائیلی افواج جنوب شام کے بعض علاقوں میں داخل ہوئیں اور اس کے بعد سے شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں فضائی حملے کرچکے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی شامی صدر احمد الشرع کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نام نہاد سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور وہاں سے انخلا نہیں کرے گی۔
ان کے اس بیان کو دمشق کی قیادت کے لیے ایک واضح سیاسی اور سکیورٹی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
- دوسری جانب شام کی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے دورۂ جبل الشیخ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر قانونی‘ اور ’اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا۔
- وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
جبل الشیخ، جسے جبل حرمون بھی کہا جاتا ہے، شام اور لبنان کی سرحد پر واقع بلادِ شام کے اہم ترین پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ پہاڑی سلسلہ جنوب مغرب میں وادی الحولہ اور بانیاس کے علاقوں سے شمال مشرق میں وادی القرن تک پھیلا ہوا ہے۔ پہاڑ کے مشرق اور جنوب میں دمشق کے مغربی دیہی علاقے، وادی العجم، اقلیم البلان اور مقبوضہ گولان واقع ہیں، جبکہ اس کے شمال اور مغرب میں لبنان کی وادی بقاع کا جنوبی حصہ اور وادی التیم واقع ہیں۔
جبل الشیخ نہ صرف شام اور لبنان کے درمیان ایک قدرتی سرحد کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اپنی بلند چوٹیوں کے باعث مقبوضہ گولان، اسرائیل اور اردن کے بعض حصوں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسے جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
اسرائیل میں جبل الشیخ کو ’قوم کی آنکھیں‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ 2280 میٹر بلند یہ چوٹی اسرائیل کے ابتدائی انتباہی اور نگرانی کے نظام کے لیے غیر معمولی سٹرٹیجک اہمیت رکھتی ہے۔ بلند مقام ہونے کی وجہ سے
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0