آر وائی پلس پر مختلف اصناف میں مواد پیش کرنے کا منصوبہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آر وائی پلس پر مختلف اصناف میں مواد پیش کرنے کا منصوبہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
پاکستان کو دوسرے ملکوں کے کامیاب او ٹی ٹی مواد کی نقل کرنے کے بجائے اپنی سماجی اور ثقافتی شناخت کے مطابق مواد بنانا چاہیے۔
سلمان اقبال کے مطابق اے آر وائی پلس پر اے آر وائی نیوز، اے آر وائی ڈیجیٹل سمیت نیٹ ورک کے مختلف پروگرام اور دیگر مواد بھی دستیاب ہوں گے۔
پلیٹ فارم پر یوزر جنریٹڈ کانٹینٹ کی سہولت بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت عام صارف اپنا تیار کردہ ڈرامہ یا دیگر مواد اپ لوڈ کر سکیں گے۔
ان کے مطابق اے آر وائی پلس پر تخلیق کاروں کے لیے رائلٹی کا نظام بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارم کے لیے تیار کیے گئے مواد سے متعلقہ فنکاروں اور دیگر افراد کو رائلٹی دی جائے گی۔
میڈیا سٹریٹجسٹ مہمت فیصل کے مطابق اے آر وائی کے فیصلے کو صرف ناظرین کے زاویے سے نہیں بلکہ کاروباری نقطۂ نظر سے بھی دیکھنا چاہیے۔
اُن کے مطابق یوٹیوب پر ڈراموں سے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن اس آمدنی کا ایک حصہ یوٹیوب اور گوگل کے ساتھ شیئر ہوتا ہے۔
اپنے پلیٹ فارم پر منتقل ہونے سے اے آر وائی کو اشتہارات اور دیگر ریونیو سٹیم پر زیادہ براہ راست کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے۔ کمپنی خود اشتہارات فروخت کر پائے گی اور اُن کے ریٹ طے کر سکے گی۔
مہمت فیصل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مفت سروس کے ذریعے زیادہ صارفین کو پلیٹ فارم سے جوڑنا اہم ہو گا اور بعد میں، اگر صارفین کی تعداد اور اُن کی جانب سے ’اے آر وائی پلس‘ کے استعمال کی عادت مضبوط ہو جاتی ہے تو سبسکرپشن سمیت دیگر ریونیو ماڈلز بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس اقدام سے ڈیجیٹل شعبے میں خرچ ہونے والی رقم کا زیادہ حصہ مقامی معیشت م
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0