درمیان پہلا فریم ورک معاہدہ جون سنہ 2023 میں طے پایا تھا، جو باہمی تجربات کے تبادلے، دفاعی صنعتوں اور فوجی…
درمیان پہلا فریم ورک معاہدہ جون سنہ 2023 میں طے پایا تھا، جو باہمی تجربات کے تبادلے، دفاعی صنعتوں اور فوجی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں اصولوں اور تعاون کو منظم کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا تھا۔
تاہم نیا معاہدہ اس فریم ورک پر فوری عمل درآمد اور علاقائی سطح پر اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی نمائندگی کرتا ہے۔
اگرچہ نیا معاہدہ باضابطہ طور پر روایتی فوجی تعاون کے دائرے میں آتا ہے، تاہم اس کے وقت نے بعض سوالات بھی اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی ’مکہ معاہدے‘ پر دستخط کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی ہوئی ہے جب خلیجی خطہ اپنے سکیورٹی ڈھانچے یا نظام کی تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس میں تعاون اور سکیورٹی کے حوالے سے نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں۔
کویت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر فوجی اتحاد یا با کویت اور پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ بظاہر فوجی اتحاد یا باہمی دفاعی معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتا، جس کے تحت دونوں میں سے کسی ایک ملک کو خطرے یا حملے کی صورت میں ایک دوسرے کو سکیورٹی کی ضمانت دینا لازم ہو۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں ہم آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
اس معاہدے کی توجہ زیادہ تر فوجی تربیت، استعداد بڑھانے، تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تیاری اور رابطہ کاری کی سطح بہتر بنانے پر ہے۔
پاکستانی سکیورٹی امور کے ماہر محمد علی کا کہنا ہے کہ ’کویت اور پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ ’مکہ معاہدے‘ سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک اجتماعی سکیورٹی معاہدہ ہے۔
محمد علی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’مکہ معاہدہ بہت وسیع اور جامع ہے اور اس میں واضح طور پر کہا
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0