جزیرہ طویل، کا اہم مقام جاندار انواع کی ابتدا اور ارتقا کے حوالے سے بھی رکھتا ہے۔
جزیرہ طویل، کا اہم مقام جاندار انواع کی ابتدا اور ارتقا کے حوالے سے بھی رکھتا ہے۔
قشم کو اپنے جغرافیائی ورثے، جسے اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے تسلیم کر رکھا ہے، ساحلوں، مینگروو کے درختوں اور پُرسکون سماجی ماحول کے باعث ایک اہم سیاحتی مقام بھی ہے۔
جزیرہ خارگ خلیج کے شمالی سرے پر ایرانی ساحل سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔
جزیرے کا رقبہ اگرچہ صرف تقریباً 20 مربع کلومیٹر ہے، تاہم یہ ایران کی تیل برآمد کرنے کی مرکزی بندرگاہ اور ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم ترین حصہ ہے۔
ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات اسی جزیرے سے گزرتی ہیں، جہاں سے تیل کے ٹینکر عموماً آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔
جزیرے پر موجود تنصیبات روزانہ لاکھوں بیرل تیل بحری جہازوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جزیرہ پر موجود تنصیبات روزانہ لاکھوں بیرل تیل بحری جہازوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
جزیرہ خارگ سمندر کے اندر بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے ایران کے بعض بڑے تیل کے ذخائر اور عالمی منڈیوں کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔
- جزیرہ خارگ سمندر کے اندر بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے ایران کے بعض بڑے تیل کے ذخائر سے منسلک ہے۔
- تیل ان ذخائر سے جزیرے تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں اسے بڑے ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے اور بڑے ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
- یہ گھاٹ گہرے پانی تک موجود ہیں، جس سے بڑے بحری جہازوں کو لنگر انداز ہونے کی سہولت ملتی ہے۔
یہ انتظام اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایران کا بیشتر ساحلی علاقہ نسبتاً کم گہرا ہے اور وہاں بڑے آئل ٹینکرز لنگر انداز نہیں ہو سکتے۔
اس کے بعد تیل بردار جہاز خلیج سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہیں اور چین کا رخ کرتے ہیں، جو ایرانی ت
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0