اُنہوں نے اپنی جان بچ جانے کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیا، کیونکہ زمین پر زیادہ رفتار سے گرنے سے اُن کی کمر، کندھا…
اُنہوں نے اپنی جان بچ جانے کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیا، کیونکہ زمین پر زیادہ رفتار سے گرنے سے اُن کی کمر، کندھا اور بازو ٹوٹ گئے تھے۔ ان کا ٹخنہ بھی مڑ گیا جبکہ سر اور چہرے پر زخم آئے اور خون بہا۔ اس حالت کے باوجود براوو نے اس مقام سے نکل گئے۔
امریکی فوجی ماہرین کے مطابق جس رفتار سے وہ زمین سے ٹکرائے، وہ تقریباً 70 سے 100 میل فی گھنٹہ (113 سے 161 کلو میٹر فی گھنٹہ) کے درمیان تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ حالات سے مطابقت پیدا کریں اور مشکلات پر قابو پائیں۔ زخمی ہونے کے باوجود میں جتنی تیزی سے م
براوو نے طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان یہ دوڑ شروع ہو گئی تھی کہ لاپتہ ہونے والے امریکی فضائیہ کے اہلکار تک پہلے کون پہنچتا ہے۔
- ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان یہ
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ کے انٹرویو میں اہلکار کے اصل نام کے بجائے اُنھیں ’براوو‘ کہا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے اہلکار ’ایلفا‘ نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو نہیں دیا۔
براوو نے اس واقعے کے لگ بھگ پانچ ماہ بعد شدید زخمی حالت میں جنوبی ایران کے دُشوار گزار پہاڑی سلسلے پر گزرنے والے 50 گھنٹوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔
براوو نے بتایا کہ میزائل لگنے کے بعد اُنہوں نے پائلٹ کے ہمراہ طیارے کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن ایک موقع پر ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اب مزید پرواز جاری نہیں رکھی جا سکتی جس کے بعد ایجیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
براوو کا کہنا تھا کہ ’میں اس رفتار پر توجہ مرکوز نہیں کیے ہوئے تھا جس سے میں ن
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0