انڈیا نجی خلائی تجارت میں اسرو کے بارے معلومات

Sep 15, 2026 - 08:20
انڈیا نجی خلائی تجارت میں اسرو کے بارے معلومات

یہ کام اب پرائیوٹ سیکٹر یا پبلک سروس انڈرٹیکنگ کمپنیوں کے ذریعے کیا جائے گا۔

اسرو کے سائنسدانوں اور ملازمین کی تنظیموں نے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن کو لکھے گئے چار صفحات پر مشتمل اپنے خط میں سوال کیا ہے کہ ’کیا ان سپیس کے سربراہ کا یہ بیان انڈیا کی حکومت، خلائی کمیشن یا خلائی محکمے کے منظور شدہ فیصلے کی عکاسی کرتا ہے؟ اگر اس پالیسی فیصلے کو حکومت کی منظوری حاصل ہے تو ملازمین کو یہ بتایا جائے کہ یہ فیصلہ کب اور کس نے کیا ہے؟ ‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

یہ خط سامنے آنے کے بعد ’ان سپیس‘ کے سربراہ ڈاکٹر پون کمار گوئنکا نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ’میں بالکل غیر مبہم الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اسرو کے کردار میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ یہ انڈیا کے خل ڈاکٹر پون کمار کے اس بیان سے واضح ہے کہ انڈیا کا سرکاری خلائی تحقیق اور ترقی کا ادارہ اسرو اب مصنوعی سیارے چھوڑنے والے راکٹ نہیں بنائے گا اور نہ ہی وہ تجارتی طور پر انڈین سمیت مختلف ملکوں کے سیارے خلا میں بھیجے گا۔

یہ منافع بخش تجارتی ذمے داری کا کام اب انڈین حکومت کی سرپرستی اور مدد سے تیزی سے ابھرتی ہوئی نجی خلائی کمپنیوں کو دے دیا گیا ہے۔

سنہ 2020 میں وضع کی گئی حکومت کی نئی خلائی پالیسی کے تحت اس وقت ملک میں تقریباً 445 خلائی کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں، جن میں کئی انڈین کمپنیاں سکائی روٹ ایروسپیس کی طرح راکٹ تیار کرنے اور خلا میں سٹیلائٹ چھوڑنے کی صلاحیت دی گئی ہیں۔

  • انڈین حکومت نے نجی خلائی کمپنیوں کو تیزی سے ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو تجارتی شکل دینے میں مدد کرنا پڑا۔
  • نیو سپیس انڈیا لمیٹیڈ نئی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو تجارتی شکل دینے میں مدد کرنا پڑے گا۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0