مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور سڑک کو وسیع کرنے پر کام شروع ہو گا۔
مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور سڑک کو وسیع کرنے پر کام شروع ہو گا۔ مئی 2026 میں ایک اور اعلان کیا گیا کہ کچی سڑک مکمل ہو چکی ہے اور چین سے ملک کو جوڑ دیا گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اور ان کے حامی میڈیا نے معاشی ترقی، تعمیراتی منصوبوں اور افغانستان کی جغرافیائی اہمیت کے بارے میں کیسے بارہا بلند و بانگ دعوے کیے۔
- طالبان حکومت کی وزارت دیہی بحالی و ترقی کے مطابق بدخشان کے بروغل علاقے سے چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر طویل اس کچی (بجری والی) سڑک کے ساتھ چار بڑے جبکہ 66 چھوٹے پل اور تقریباً 3,100 میٹر حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔
- بروغل بدخشان کے واخان علاقے میں واقع ہے اور ڈیورنڈ لائن پر خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے متصل علاقہ ہے۔
- طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے لوگوں، کے لیے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ مست
ہوائی اڈے کی تعمیر پر سرکاری بجٹ سے 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی خرچ کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کی افتتاحی تقریب میں طالبان حکومت کے وزیر دیہی بحالی و ترقی عبداللطیف منصور اور بدخشان کے گورنر رحمت اللہ نجیب سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔
عبداللطیف منصور نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے لوگوں، کے لیے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں یہ افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم اور بڑی تجارتی و ٹرانزٹ راہداری بھی بن سکتی ہے۔
- انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بڑے عوامی فلاحی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے اور یہ کہ ایسے منصوبے غیر ملکی مشیروں اور انجینیئروں کی موجودگی کے بغیر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے اس سلسلے میں قوش ٹیپہ نہر اور سالنگ شاہراہ کی بحالی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن پر ان کے بقول اربوں افغانی خرچ کیے گئے ہی
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0