بی بی سی اردو کی خبروں میں، فہیم اکرم کے کیس میں باضابطہ رابطہ نہیں کیا جارہ ہوا۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلا…

Oct 07, 2026 - 10:54
بی بی سی اردو کی خبروں میں، فہیم اکرم کے کیس میں باضابطہ رابطہ نہیں کیا جارہ ہوا۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلا…

بی بی سی اردو کی خبروں میں، فہیم اکرم کے کیس میں باضابطہ رابطہ نہیں کیا جارہ ہوا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فہیم اکرم کے کیس میں امریکی حکام کی جانب سے تاحال حکومت پاکستان کو کوئی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے کیسز میں باقاعدہ طریقہ کار ہے جس میں غیرملکی حکام اپنے متعلقہ سفارتخانے کو درخواست بھیجتے ہیں اور پھر یہ درخواست حکومت پاکستان کو موصول ہوتی ہے۔

بی بی سی نے پولیس حکام اور خانیوال میں مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ فہیم اکرم کون ہیں؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں。

خانیوال سے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گ خانیوال سے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ فہیم اکرم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، گذشتہ دنوں انھیں فہیم اکرم اور اُس کے ساتھ اس کاروبار میں منسلک افراد کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کے احکامات ملے تھے۔

انہوں نے کہا اس ضمن میں ابتدائی معلومات وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں۔

  • وزارت داخلہ کے ایک متعلقہ اہلکار نے ابتدائی معلومات ملنے کی تصدیق کی ہے۔

خانیوال پولیس کی جانب سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق فہیم اکرم خانیوال کے علاقے پیپلز کالونی کے رہائشی ہیں اور انھوں نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق فہیم اکرم کے ایک بھائی بھی مبینہ طور پر اُن کے ساتھ کام کرتے تھے۔

  • رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں سے اکٹھی کی گئی ان معلومات میں بتایا گیا ہے کہ فہیم اکرم نے تقریباً دو، تین سال قبل امریکہ سے متعلق آن لائن کاروبار کا آغاز کیا تھا۔

ان ابتدائی معلومات کے مطابق ک

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0