پانچویں صوبے کا مقصد سیاسی جماعتوں نے نہیں دیتا، تمام صوبوں کی تجزیہ کرنے کی ضرورت گزار رہی ہے۔
پانچویں جماعت کے ساتھ عام جملے پڑھنے میں اسلام آباد کا نظام نہیں رہا۔ وزیرِ داخلہ نے اس موضوع پر کہا کہ ہمارے نظام تعلیم کا حال ہے کہ پانچویں جماعت بچہ عام جملے نہیں پڑھ سکتا۔ میں نے سسٹم ری سیٹ کرنے کی ضرورت کو اپنا کہا، آئین کے اندر آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے پانچویں جماعت کے حامیوں کو انتظامی صوبوں میں بھی دستیاب کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے چھوٹے صوبوں کے حامی ہیں، لیکن جو ہو گا سب کے ساتھ ہو گا۔
محسن نقوی نے پانچویں جماعت کے بچتار کے اثر کو مثبت کرنے کے لیے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا ارادہ پختہ ہے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
فہد حسین نے محسن نقوی کے بیان پر لکھا کہ اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ کوئی بہت بڑا فیصلہ فوری طور پر متوقع نہیں ہے۔ بحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف کا تعین کرنے پر قائل کیا جا سکتا ہے۔
فواد خیال رہے کہ زہران ممدانی نیویارک سٹی جبکہ محمد صادق لندن کے میئر ہیں۔
مکالمے میں مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی، وکلا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’وہ چھوٹے صوبوں کے حامی ہیں، لیکن جو ہو گا سب کے ساتھ ہو گا۔ بلوچستان کا وزیرِ اعلیٰ صوبے کے دورے پر نکلتا ہے تو اسے دو دن واپسی پر لگتے ہیں۔ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی نہیں جا سکتا۔ لہذا اگر تقسیم ہونی ہے تو تمام صوبوں کی ہونی چاہیے۔ ‘
سوشل میڈیا پر محسن نقوی کے بیان پر بات ہو رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے محسن نقوی کے بیان پر لکھا کہ ’سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے جارحانہ رویے نے محسن نقوی کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’مضبوطی سے ڈٹے رہنے کے بجائے ان کی تقریر سے کمزوری اور معذرت خواہانہ انداز ج
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0