احسان ظفر کے مطابق، حادثہ ایک تکنیکی کامیابی کا نتیجہ ہوئا۔
احسان ظفر کے مطابق، حادثہ ایک تکنیکی کامیابی کا نتیجہ ہوئا۔ انہوں نے پولیس کی گاڑی سے جاٹرائی گاڑی کو مؤقف سنا، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے والے بات کی مدد سے وین کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
ڈینٹنگ اور پینٹنگ کے اخراجات کی مد میں، انھوں نے مطلوبہ رقم ادا کر دی، جس سے ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
بی بی سی اردو نے رپورٹ بنانے والے اور حادثے کا کلپ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والے ٹی وی رپورٹر محمد عالی جاہ سے بھی بات کی ہے۔
احسان ظفر نے کہا کہ ان کے ٹیلی وژن چینل نے احسان ظفر کی ڈرائیور کے بغیر گاڑی پر رپورٹ تیار کرنے کے لیے کہا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے حادثے کی ویڈیو کا اینٹرنیٹ سے شیئر کیا جس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ ریموٹ اپریٹڈ گاڑی ایک تکنیکی کامیابی ضرور ہے لیکن سسٹم ابھی مکمل طور پر محفوظ اور قابل اعتماد نہیں۔
ان کا خیال تھا کہ گاڑی اس لیے بے قابو ہوئی کیوں کہ ان کا انٹرنیٹ سے کنکشن منقطع ہو گیا تھا۔
احسان ظفر نے جواب دیا کہ انھوں نے پروگرامنگ میں اس بات شامل کر رکھی ہے اگر انٹرنیٹ رابطہ ٹوٹے تو گاڑی خود بخود رک جائے۔
- محمد عالی جاہ نے واقعے کو ناکامی سینا صاب کے مطابق اس پر تیزی سے وائرل ہوئی۔
فاروق بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں خود کار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے با صلاحیت افراد موجود ہیں۔ ان کے مط
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0