یہ امکان کم ہے کہ ایک رسید سے جسم میں جانے والی بی پی اے کی معمولی مقدار صحت پر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو۔

Sep 17, 2026 - 12:56
یہ امکان کم ہے کہ ایک رسید سے جسم میں جانے والی بی پی اے کی معمولی مقدار صحت پر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو۔

یہ امکان کم ہے کہ ایک رسید سے جسم میں جانے والی بی پی اے کی معمولی مقدار صحت پر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’صاف لفظوں میں کہوں تو میرا خیال ہے کہ آپ رسید کھا بھی لیں تو بھی بی پی اے کی اتنی مقدار جسم میں نہیں جائے گی کہ کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ ‘

لیکن ان کیشیئرز کا کیا جو زیادہ باقاعدگی سے رسیدیں ہاتھ میں لیتے ہیں؟

تولیدی ہارمونز کے ماہر جے سینا کہتے ہیں کہ ’میں نے کیشیئرز کی بڑی تعداد کو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے کلینکس کا رخ کرتے نہیں دیکھا۔ ‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’یہ جاننے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں کہ پیشے یا ماحول کے ذریعے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا سامنا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ‘

اس کے باوجود یورپی یونین اور برطانیہ میں بی پی اے والی رسیدوں پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی انھیں مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

ان خطوں میں بہت سے مینوفیکچررز نے بی پی اے کی جگہ بسفینول ایس استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پروفیسر جونز کے مطابق یہ کیمیائی مرکب ’تقریباً وہی‘ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’تکنیکی طور پر بی پی ایس زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کے بارے میں وہ شواہد موجود نہیں جو بی پی اے کے بارے میں ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر، میرا اب بھی خیال ہے کہ اس سے خطرہ کافی کم ہے۔

اگر آپ اب بھی پریشان ہیں تو دستانے استعمال کرکے یا کاغذی رسید کے بجائے ای میل کے ذریعے رسید حاصل کرکے بی پی اے کے سامنے آنے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

پروفیسر جونز کہتے ہیں کہ ’اگر اس سے آپ کو بہتر محسوس ہوتا ہے اور آپ کی پریشانی کم ہوتی ہے تو پھر ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0