خاتون کے میڈیکل ریکارڈ میں مشکلات
ہسپتال کی رپورٹ کے بعد بھی خاتون اور ان کا خاندان واقعے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں۔
انسپیکٹر خالد رفیق مزید بتاتے ہیں: 'ہم نے ہمدرد ہسپتال سے تمام ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور تمام عملے کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے تھے۔ '
جب پولیس نے تمام ٹیسٹ اور دیگر شواہد جانچ کے لیے آغا خان ہسپتال بھجوا دیے تو اس وقت خاتون نے اقرار کیا کہ وہ کبھی بھی حاملہ نہیں تھیں اور انھوں نے غلط بیانی کی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے انھیں بتایا کہ اس کی وجہ 'سماجی دباؤ' تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے انھیں مزید بتایا کہ 'شادی کے تین سال بعد بھی ان کے گھر اولاد نہیں ہو رہی تھی جبکہ ان کے ساتھ اور ہم عمر خواتین مائیں بن چکی تھیں۔
یہ بات انھیں اندر ہی اندر کھائے، اسی لیے انھوں نے خاندان کو بتا دیا کہ وہ حاملہ ہیں۔
انسپیکٹر خالد رفیق مزید بتاتے ہیں کہ خاتون کو توقع تھی کہ وہ حاملہ ہو جائیں گی، مگر ایسا نہیں ہو سکا اور وہ وقت بھی آ پہنچا جب ان کی ڈیلیوری متوقع تھی۔
تاہم پولیس کے مطابق بیوی کے ’اظہار ندامت‘ کے بعد شوہر اس واقعے کو فراموش کر کے اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
تاہم انسپیکٹر خالد رفیق کہتے ہیں کہ خاندان نے سوال اُٹھایا ہے کہ ’اگر خاتون نے غلط بیانی کی تھی تب بھی حقیقت کسی ڈاکٹر کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ سکتی ہے اور ہسپتال نے تصدیق کیے بغیر آپریشن کیوں کیا؟ ‘
خاتون کے شوہر نے ہسپتال کے خلاف کارروائی کی درخواست دی ہے، جس پر تفتیش ہو رہی ہ
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0