سعودی عرب نے اپنی ایسٹ۔
سعودی عرب نے اپنی ایسٹ۔ ویسٹ پائپ لائن کے استعمال میں اضافہ کر دیا تاکہ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرۂ احمر کے راستے تیل برآمد کیا جا سکے۔
میری ٹائم انٹیلی جنس فرم کپلر کے مطابق اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 36 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم گذشتہ ہفتے جمعہ کے روز ڈرون حملے کے بعد اس پائپ لائن کو بند کرنا پڑا۔ سعودی عرب نے اس حملے کا الزام عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
اس کے علاوہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کی متعدد تیل تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض تنصیبات پر کام عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
چیتھم ہاؤس کے نیل کوئلیم کے مطابق مرمت کے لیے پائپ لائن کو آٹھ ہفتوں تک بند رکھنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے منگل کو نشریاتی ادارے سی این بی سی کو بتایا کہ پائپ لائن ’بہت جلد‘ دوبارہ کھول دی جائے گی۔
اگرچہ امریکی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایندھن کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، مگر بیشتر آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ آبی گذرگاہ اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہے اور وہاں آمدورفت میں اب بھی مشکلات حائل ہیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے پہلے یومیہ تقریباً دو کروڑ 10 لاکھ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی تھی۔
تاہم کپلر کے اندازے کے مطابق اگست کے اختتام تک یہ حجم کم ہو کر تقریباً 86 لاکھ بیرل یومیہ رہ گیا تھا۔
- گذشتہ دو ہفتوں کے دوران یمن کے حوثی سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کو پیچھے دھکیل کر آبنائے باب المندب کے نزدیکی اہم علاقے اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
- یمن کے جنوب مغرب
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0