دیے گئے اور طلبہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
دیے گئے اور طلبہ کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کے بعد پولیس نے ’ایک نامعلوم شخص‘ کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کر لیا اور تحقیقات کے لیے سات رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
یہ بے امنی 27 ستمبر کے ابتدائی لمحات میں اس وقت شروع ہوئی، جب یہ خبر پھیلی کہ چند روز قبل یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے اندر یا اس کے قریب ایک طالبہ کا ریپ کیا گیا تھا۔
مشتبہ شخص کو طلبہ اور میڈیا رپورٹس میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا، کبھی پلمبر، کبھی پینٹر اور کبھی تعمیراتی کارکن بتایا گیا۔ بعض طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ 23 ستمبر کو ہوا تھا اور انھوں نے یونیورسٹی پر الزام عائد کیا کہ اطلاع ملنے کے باوجود اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
بی بی سی پنجاب بی بی سی پنجابی کو معلوم ہوا ہے کہ اس الزام کے بارے میں پیغامات واٹس ایپ گروپس کے ذریعے گردش کر رہے تھے اور جیسے جیسے یہ پیغامات پھیلتے گئے، ہجوم جمع ہونا شروع ہوتا گیا۔
بالآخر سینکڑوں افراد نیشنل ہائی وے 44 پر نکل آئے، جو دہلی اور پنجاب کے درمیان ایک اہم شاہراہ ہے اور 15 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ٹریفک معطل رہی۔
اتوار کی شام تک یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا جا چکا تھا، اشیا کو آگ لگا دی گئی تھی اور پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر لاٹھیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا، اگرچہ پولیس نے بعد میں لاٹھی چارج کرنے کی تردید کی۔
کیمپس کے دروازوں کے پیچھے ایک طالبہ نے خوف کی ایک رات کا احوال بیان کیا۔
آریا نامی ایک طالبہ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا ’ہم چاقو اور قینچیاں لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ‘
ان کے مطابق طلبہ ک
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0